مکمل تفصیلات

کوئٹہ سے موصول ہونے والی اس خبر میں Balochistan کے گورنر Jaffar Khan Mandokhail نے واضح کیا کہ صوبے سے 100 سے زائد اسکالرز جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ پروفیسروں اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی مستقل تعیناتی پر پابندیاں ہیں، جس نے تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

گورنر نے یہ بات Balochistan University of Engineering and Technology (BUET)، Khuzdar کی تیسری سینیٹ میٹنگ کی صدارت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو صوبے کی سرکاری جامعات میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور تدریسی معیار متاثر ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ پی ایچ ڈی اسکالرز اور سینئر پروفیسروں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے محققین اور اساتذہ کو بھی متوجہ کرنے کے لیے جامع اور پرکشش حکمتِ عملی بنانا ہوگی۔

تاریخ و وقت: 2026-11-05 13:45 PKT
اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2042204/balochistan-governor-cautions-against-brain-drain
مطابق Dawn - Pakistan، گورنر نے زور دیا کہ تجربہ کار فیکلٹی کے نقصان کو روکے بغیر جامعات کی کارکردگی بہتر بنانا ممکن نہیں۔

عوامی اثرات

یہ مسئلہ صرف یونیورسٹیوں تک محدود نہیں رہتا، اس کا براہِ راست اثر طلبہ، تحقیق، اور صوبے کے مستقبل پر پڑتا ہے۔ جب قابلِ استاد اور محقق باہر چلے جائیں تو کلاس روم کمزور ہوتا ہے، لیبارٹریاں خالی لگتی ہیں، اور نئی نسل کو وہ رہنمائی نہیں ملتی جو ایک مضبوط تعلیمی نظام دیتا ہے۔

Balochistan جیسے صوبے میں جہاں پہلے ہی تعلیمی وسائل محدود سمجھے جاتے ہیں، وہاں 100 سے زائد اسکالرز کا جانا ایک سنجیدہ اشارہ ہے۔ اس سے عوام میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہماری جامعات واقعی باصلاحیت لوگوں کو روکنے میں کامیاب ہیں یا نہیں۔ اگر بروقت پالیسی نہ بنی تو نقصان صرف اداروں کا نہیں، پورے صوبے کی علمی ساکھ کا ہوگا۔

عمل یا حل

اب فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور جامعات مل کر ایسی پالیسی بنائیں جو اہل اساتذہ اور پی ایچ ڈی اسکالرز کو یہاں رکنے پر آمادہ کرے۔ مستقل تعیناتی کے قواعد، بہتر تنخواہی ڈھانچہ، تحقیقی سہولتیں، اور ترقی کے واضح راستے اس حل کا حصہ ہونے چاہییں۔ ساتھ ہی نئے محققین کو بھی اعتماد دیا جائے تاکہ وہ Balochistan کی یونیورسٹیوں کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔

اگر ایسا نہ ہوا تو سرکاری جامعات میں وہی خلا مزید گہرا ہوگا جس کی طرف گورنر نے اشارہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے: کیا صوبہ اپنے ذہین دماغوں کو روکنے کے لیے واقعی سنجیدہ ہے، یا پھر ہر سال مزید استاد، اسکالر اور محقق باہر جاتے رہیں گے؟