مکمل تفصیلات
کراچی میں نہرِ خیام کی بحالی کے منصوبے پر تنازع مزید گہرا ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 26 اکتوبر کو کراچی میگا پروجیکٹس کے پروجیکٹ منیجر نے سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (Sepa) کے ڈائریکٹر جنرل کو خط لکھا، جس میں ‘Rehabilitation of Nehr-i-Khayyam including Diversion of Sewerage Water (District South)’ اسکیم کا جائزہ لینے اور ماحولیاتی قوانین کے تحت درکار تقاضے، مِٹگیشن اقدامات، منظوریوں اور دیگر ضروری کارروائیوں سے آگاہ کرنے کی درخواست کی گئی۔
لیکن اسی دوران تعمیراتی کام پوری رفتار سے جاری ہے، جس پر ماحولیاتی ماہرین اور بعض Sepa اندرونی ذرائع نے اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق جب منصوبہ عملی طور پر کافی آگے بڑھ چکا ہو تو بعد میں کیا جانے والا ماحولیاتی جائزہ حقیقی معنوں میں آزاد اور قابلِ اعتماد نہیں رہتا۔ ناقدین اسے محض دکھاوا یا ‘eyewash’ قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ کے ایک معاون کا مؤقف ہے کہ تعمیرات نہیں رکیں گی، البتہ حکومت نے Sepa سے کہا ہے کہ وہ منصوبے کو دیکھ کر خدشات دور کرے۔ اصل لنک: https://www.dawn.com/news/2040827/critics-doubt-nehr-i-khayyams-eia-plan-as-construction-continues-in-karachi
عوامی اثرات
یہ معاملہ صرف ایک نالے یا بحالی کے کام تک محدود نہیں، بلکہ کراچی کے شہری ماحول، پانی کے نظام اور سرکاری شفافیت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر سیوریج پانی کے انحراف اور تعمیراتی سرگرمیوں کے اثرات پہلے سے پوری طرح نہیں پرکھے گئے تو اس کا نقصان آس پاس کے رہائشی علاقوں، ماحول اور روزمرہ زندگی پر پڑ سکتا ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں عوام پہلے ہی نکاسی آب، آلودگی اور ناقص منصوبہ بندی کے مسائل سے تنگ ہیں۔ اس لیے جب ایک حساس منصوبے پر بعد میں ماحولیاتی جائزہ لینے کی بات ہو تو سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا فیصلے واقعی احتیاط سے ہو رہے ہیں یا پھر عوامی دباؤ کم کرنے کے لیے کارروائی دکھائی جا رہی ہے؟
عمل یا حل
اب اصل امتحان یہ ہے کہ Sepa اس منصوبے کا جائزہ صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رکھے بلکہ زمینی حقیقت، تعمیراتی پیش رفت، ماحولیاتی اثرات اور شہری خدشات کو کھل کر دیکھے۔ اگر واقعی تحفظی اقدامات درکار ہیں تو انہیں واضح، تحریری اور قابلِ عمل شکل میں سامنے لایا جائے، تاکہ بعد میں نقصان کی ذمہ داری ایک دوسرے پر نہ ڈالی جائے۔
دوسری طرف حکومت کو بھی یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ جب کام پہلے ہی جاری تھا تو ماحولیاتی جائزہ پہلے کیوں نہ لیا گیا۔ کراچی کے لوگ اب یہی سوال پوچھ رہے ہیں: کیا ترقی کے نام پر ماحولیاتی اصولوں کو پیچھے دھکیلا جا رہا ہے، یا پھر یہ واقعی ایک درست اور شفاف منصوبہ ہے؟